امریکہ میں قائم سکھوں کی عالمی تنظیم سکھ فار جسٹس کے سربراہ سردار پتونت سنگھ پنوں نے کہا ہے کہ چین کے خلاف کارروائیاں کرنے کے لئے بھارتی حکومت سکھ فوجیوں کو لائین آف ایکچوئل کنٹرول پر تعینات کر رہی ہے اور انہیں ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
لداخ میں چینی فوج کے خلاف لڑنے والے بھارتی سکھ فوجیوں کے نام ایک ویڈیو پیغام میں سردار پتونت سنگھ پنوں نے کہا کہ چین سکھوں کا دشمن نہیں بلکہ بھارت اور ترنگا سکھوں کا اصل دشمن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی ترنگا ہے جسے 1984 میں بھارتی فوج نے امرتسر میں سکھوں کے مقدس دربار صاحب کو منہدم کرکے وہاں لہرایا تھا جب کہ سکھوں کی نسل کشی کی گئی تھی۔ انہوں نے کہاکہ کانپور میں سکھ فوجی جوان کے 13 دن کے بچے کو دھکتے تندور میں بھون دینے کا واقعہ سکھ فوجی کیسے بھول سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی ترنگے کے سائے تلے دہلی میں سکھوں کی ماوں بہنوں اور بیٹیوں کی سرعام عزتیں پامال کی گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی بھارت اسی ترنگے تلے سکھ فوجیوں کو ورغلا رہا ہے اور انہیں ڈھال بنا کر بارڈر پر لڑنے کے لئے بھیج رہا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ جن فوجیوں کو بارڈر پر بھارتی فوج استعمال کر رہی ہے ان کے خاندان کےمکمل افراد کی فہرستیں تیار کی جارہی ہیں۔ ان کی عزت کوپامال کرنے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سال نومبر میں خالصتان کے قیام کے لئے عالمی ریفرنڈم کروا رہے ہیں۔ انہوں نے سکھ فوجیوں سے اپیل کی کہ وہ ہتھیاروں کو چھوڑ کر سکھ فار جسٹس کے سفیر بن جائیں انہیں جتنی تنخواہ بھارت میں ملتی ہے وہ انہیں اس سے دس ہزار روپے زیادہ دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ آج اس بات کاموقعہ آگیا ہے کہ سکھ فوجیوں کو بتایا جائے کہ چین ان کا دشمن نہیں بلکہ ان کااصل دشمن بھارت اور ترنگا ہے۔
Post a Comment